|
|
|
|
| | Justice (R) Saeed Uz Zaman Siddiqui is talking according to law.Justice (R) Tariq Mehmood is firing in the dark. does not make any sense.No body has decided that it is a offence or not.Now the commission consisting of these three honorable high court judges will decide whether if there was and offence or not. Tariq Mehmood is bullshiting. |
|
| | TARIQ MAHMOOD ki baat theek han lekin yeh usi waqt mumkin hai jab hakumat aor parliment naam ki koi cheez maojood ho,jab MAFIA DAAN sader ban jae aor DAKU parlimenteriyan uss waqt awam ko sirf ummeed SUPREEM KORT ki taraf se hi ho sakti hai.Tariq mehmood sahib se ghuzarish hai k aap eek NORMAL JAMHURI HAKUMAT ki baten ker rahe han .........ISS WAQT PAKISTAN MEEN .......SADER... DAAN .........aor ....PARLIMENT.....DAKUON ki ......aor HAKUMAT...MAFIA DAAN aor USS k hejare han.AWAM K LIE iss waqt EMERGENCY hai .....is lie......SUPREEM COART jo faisla ker rahi hai wo awam k HAQ meen hai.Aap apne qanon jamhuri hakumat k lie bacha ker rakhie......werna aap khowamkha awam se juttiyan khayen ghe. |
|
| سپریم کورٹ کے اس فیصلہ کے بعد کہ میمو کی حقیقت تک پہنچنا ضروری ہے اور اس کے لئے ملک کی اعلیٰ ترین عدالتوں کے چیف جسٹسز پر مشتمل عدالتی کمیشن قائم بھی کر دیا ،اس پر حسین حقانی کی وکیل عاصمہ جہانگیر صاحبہ نے جس شدید جھنجلاہٹ ، تلخ نوائی اور غم و غصّہ کا اظہار کیا ہے وہ نہ صرف افسوسناک ہے بلکہ عدلیہ کے لئے انتہائی نا مناسب الفاظ کا اظہار ایک قانون داں کو زیب نہیں دیتا . وہ جس کمزور وکٹ پہ کھیلنے نکلی تھیں اس کا یہ ہی نتیجہ نکلنا تھا . محترمہ اگر بات فیصلے سے اختلاف کی حد تک رہنے دیتیں تو یہ ان کا حق تھا لیکن پوری بنچ پہ جانبداری اور بد نیتی کا الزام دھرنا ساتھ ہی عدالتی نظام کو پوشیدہ مقتدر طاقتوں کا آلہ کار قرار دینا نہ تو قرین انصاف ہے نہ ہی ایک ماہر قانون سے اس کی توقع کی جا سکتی ہے . اور پھر بات یہیں پہ ختم نہیں ہوئی انہوں نے حسین حقانی کے کیس کو خالص فنی اور قانونی بنیاد پہ لڑنے کے بجےسیاست زده کرکے خراب کیا اور اب اس سے دست برداری کا اعلان بھی کر دیا .اس کے ساتھ ہی انہوں نے سپریم کورٹ کے نامزد کمیشن کے سامنے پیش ہونے سے بھی انکار کر دیا جو ان کی طرف سے اعتراف شکست و بیچارگی ہے . کوئی امید بار نہیں آتی - کوئی صورت نظر نہیں آتی عاصمہ جہانگیر نا صرف ایک معروف قانون داں ہیں بلکہ اپنی سیاسی جدوجہد ، حقوق انسانی کے پرچار ،اور مخصوص نظریات کے سبب ایک سماجی مقام اوراہمیت بھی رکھتی ہیں ان کی این - جی - او کو بھارت اور امریکا میں بھی خاصی پزیرائی ملتی رہی ہے .بلوچستان میں حقوق انسانی کی پامالی پہ بھی وہ نوحہ کناں رہتی ہیں . یہ اور بات ہے کہ کشمیر میں بھارتی فوج کے مظالم ، مسلم کش فسادات ، فاٹا میں معصوم شہریوں کا گولیوں ، بموں اور ڈرون حملوں کے زریعے قتل ، سوات میں خون ریزی ،یا سیلاب زدگان کا حال زار ان کے منشور اور مقاصد سے بہت بعید ہیں. ایک حالیہ ٹی - وی انٹرویو میں انہوں نے واشگاف الفاظ میں کہا کہ عدالت عظمیٰ فوج کے زیر اثر ہے اور اس کیس میں جانبدار ہے .وجہ اس کی فوج کا خوف ہے حالانکہ زیادہ پرانی بات نہیں کہ یہ ہی جج صاحبان اور عدلیہ تھی کہ پرویز مشرّف کی فوجی جبروت اور شخصی آمریت سے ٹکرائی تھی -یہ ہی جج صاحبان کشتۂ ستم بنے اور اپنے روزگار سے بھی محروم ہوئے ، ججوں کی جانبداری کی دلیل ان کے پاس یہ ہے کہ پوری بنچ نے متفقہ فیصلہ کیوں دیا . کوئی جج نہ تو ان کے زور بیان اور دلائل ( جو کہ سیاست زادہ تھے ) سے متاثر ہوا نہ ہی ان کے زرخیز ذہن سے سوچا ع " یہ کیا کہ اک جہاں کو کرو وقف اضطراب - یہ کیا کہ ایک دل کو شکیبا نہ کر سکو شاید اس سے زیادہ بودی دلیل کوئی وکیل نہ دے سکے . چیف جسٹس کے خلاف ریفرنس کی سماعت کرنے والی بنچ جس کی سربراہی جسٹس رمدے نے کی تھی اس کا فیصلہ بھی تو شاید متفقہ ہی تھا . اور مشرّف کے مارشل لاء اور ہنگامی حالت کے نفاذ کو بلا جواز اور غیر آئینی قرار دینا کا فیصلہ بھی متفقہ تھا . کیا اس دلیل کا اطلاق ان فیصلوں پہ بھی ہوتا ہے ؟ ان کا ایک اور اعتراض یا دلیل یہ ہے کہ چیف جسٹس نے جنرل کیانی کا حوالہ دے کر میمو کے وجود کو کیوں تسلیم کیا ، عجیب بات ہے کہ خود عاصمہ نے امریکن جنرل جمیس جون کا بیان حلفی منگوا کر عدالت میں داخل کیا تو وہ ٹھیک تھا اور مستند بھی ،اسی پہ جناب وزیر اعظم نے مصرع طرح دیا کہ اس بیان نے میمو کا مسئلہ ختم کر دیا اور ان کے ہمنواؤں نے اس پہ دو غزلہ اور سہ غزلہ کہہ ڈالا ، سو امریکن جنرل کہے تو حق ہے اور پاک فوج کا سربراہ کہے تو باطل " تمہاری زلف میں پہنچی تو حسن کہلائی - وہ تیرگی جو مرے نامہ سیاہ میں ہے ایک اور بات جو انہوں نے اپنے شبہات اور اقدامات کا دفاع کرتے ہوئے کہی وہ یہ تھی کہ فیض احمد فیض ، حبیب جالب اور ولی خان پہ بھی غدّاری کے الزامات لگے تھے . پہلی بات تو یہ ہے میمو کے مندرجات اور حسین حقانی کے کردار اور مقام کی ٱن سے کوئی مماثلت نہیں .دوسرے راولپنڈی سازش کیس کی حقیقت کا اعتراف ، اس میں شامل میجر اسحاق اور افضل بنگش اپنی تحریروں میں کر چکے ہیں ،یہاں ہمیں ان کی نِیَت اور مقاصد سے بحث نہیں . رہی بات حبیب جالب اور ولی خان کو غدّار قرار دینے کی وہ کسی فوجی آمر نے نہیں بلکہ جمہوری وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے کیا تھا .ولی خان کی نیشنل عوامی پارٹی پہ پابندی لگا کر جیل میں ڈالا اور غدّاری کا مقدمہ چلانے کے لئے خصوصی عدالت تشکیل دی . ایک فوجی آمر ضیاء الحق نے تو انہیں رہا کر کے کیس ختم کیا تھا . کمیشن کے دائرہ کار میں کسی کو ملزم ٹہرانا نہیں بلکہ میمو کی حقیقت کو ثابت کرنا ہے .اگر وہ محض کاغذ کا بے حیثیت ٹکڑا ہے تو بھی پتہ چل جائے گا . آخر اتنا واویلا کیوں کہ حسین حقانی کی ایوان صدر اور وزیر اعظم کی رہایش گاہ کو بھی ایک قانون دان قانونی اور جیز کہ ڈالے. عاصمہ جہانگیر نے ایک بار پھر منصور اعجاز کے کردار ، اس کی امریکن شہریت اور پاکستان دشمنی کی بات کی ہے جو یہاں زیر بحث ہی نہیں ، نہ کوئی اس کا دفاع کر رہا .بہت مناسب ہوتا اگر وہ کمیشن کا بائیکاٹ نہ کرتیں اور وہاں منصور اعجاز پہ جرح کرکے اس کے پرزے اڑا دیتیں . ویسے مقطعے میں آ پڑی ہے سخن گسترانہ بات . دوست اور پرانے ساتھی ہونے کے علاوہ حسین حقانی اور منصور اعجاز میں قدر مشترک یہ بھی ہے کہ دونوں کے پاس امریکن شہریت ہے ا |
|
|
|
|
|